Skip to main content

Posts

Basheer Badr: The Urdu Shayar (in Urdu)

- بڑےلوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلھ رکھنا، جہاں دریا سمندر  سے  ملا  دریا  نہیں  رہتا۔                         — بشیر بدر بشیر بدر زندگی:      ڈاکٹر بشیر بدر ، اردو کے عظیم شاعر ہیں، 15 فروری 1935 کو فیض آباد میں آپ کو پیدائش ہوئی، جو اب بھارت کے اترپردیش کے ضلع ایودھیا کا ایک شہر ہے۔  انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔  آپ کی اہلیہ راحت بدر ہیں اور آپ کے تین بیٹے نصرت بدر ، معصوم بدر ، طیب بدر اور ایک بیٹی صبا بدر ہیں۔  اپنی تعلیم کے دوران ، آپ علی گڑھ یونیورسٹی کے علاقے میں رہتے تھے۔  بعد میں ، آپ کچھ دن میرٹھ میں بھی رہے جب فسادات میں آپ کا گھر جلا دیا گیا۔  اس کے بعد پھر آپ کچھ عرصہ دہلی میں رہے اور آخر میں آپ بھوپال میں مستقل طور پر آباد ہوگئے۔ اس وقت ، آپ دماغی مرض  ڈیمینشیا سے گزر رہے ہیں اور آپ کو اپنی شاعری کی زندگی یاد نہیں ہے۔ کام:       ہندوستان کی پاپ کلچر میں سب سے زیادہ مقبول شاعر ا...

Bashir Badr: The Urdu Shayar (in Hindi)

- बड़े लोगों से मिलने में हमेशा फासला रखना, जहाँ दरया समंदर से मिला दरया नहीं रहता.                                       —बशीर बद्र बशीर ब द्र  ज़िन्दगी:       उर्दू के महान शायर डॉक्टर बशीर  बद्र का जन्म 15 फरवरी 1935 ई०  को  फैजाबाद में हुआ था, जो इस वक़्त भारत में उत्तर प्रदेश के ज़िला अयोध्या का एक शहर है. आप की तालीम अलीगढ़ मुस्लिम यूनिवर्सिटी से हुई थी. आप की बीवी राहत बद्र हैं और आपके तीन बेटे नुसरत बद्र, मासूम बद्र, तैयब बद्र और एक बेटी सबा बद्र हैं. अपनी तालीम के दौरान आप अलीगढ़ यूनिवर्सिटी के इलाक़े में रहते थे. बाद में आप  मेरठ में भी कुछ वक़्त रहे हैं जब दंगों में आपका घर जल गया था. इसके बाद कुछ वक़्त दिल्ली में रहे और फिर भोपाल में आप मुस्तकिल तौर पर बस गए.  मौजूदा वक़्त में आप दिमाग़ की बीमारी डिमेंशिया से गुज़र रहे हैं और अपने शायरी का जीवन की आप को याद नहीं है. काम:       भारत म...

Moeen Ahsan Jazbi: The Shayar with a lot of emotions (in Urdu)

زندگی ہے تو بہر حال بسر بھی ہو گی    شام آئی ہے تو آنے دو سحر بھی ہو گی                         معین احسن جذبی  معین احسن جزبؔی         زندگی:             اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں مبارکپور نام کا ایک قصبہ ہے یہیں معین احسن جذبی کی پیدائش 1912ء میں ہوئی تھی۔ آپ کو شروع سے ہی مالی بدحالی کا سامنا کرنا پڑا اور سوتیلی ماں کا سلوک بھی اُن کے ساتھ بالکل بھی اچھا نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ اداس رہا کرتے تھے۔ پھر اپنی نجی زندگی سے نظر ہٹاکر آپ نے اردو شاعری کی طرف دھیان لگایا اور اردو ادب کی مشہور شخصیتوں کے کام کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ اُنکے اندر خداداد صلاحیت تو تھی ہی اسلئے مطالعہ کرتے کرتے آپ نے نو عمری ہی سے اشعار لکھنا شروع کر دیا تھا۔           1929ء میں آپ نے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی اور اسکے بعد سینٹ جان کالج، آگرہ سے انٹرمیڈیٹ بھی مکمل کر لیا۔ پھر جذبی نے دہلی کے اینگلو عربی کالج می...

Moeen Ahsan Jazbi: The Shayar with a lot of emotions (in Hindi)

ज़िन्दगी है तो बहरहाल बसर भी होगी शाम आई है तो आने दो सहर भी होगी                         -- मुईन  अहसन जज़्बी मुईन अहसन जज़्बी ज़िन्दगी:           उत्तर प्रदेश के आज़मगढ़ ज़िले में मुबारकपुर नाम का एक कस्बा है यहीं पर 1912 ई० में मुईन  अहसन जज़्बी  की पैदाइश हुई थी. आप को शुरू ही से माली बदहाली का सामना करना पड़ा, और सौतेली मां का सुलूक भी उन से बिल्कुल भी अच्छा नहीं था. जिस की वजह से वह उदास रहा करते थे. फिर अपनी निजी ज़िंदगी से ध्यान हटा कर आपने उर्दू शायरी की तरफ ध्यान लगाया और उर्दू अदब की मशहूर हस्तियों के काम को पढ़ने लगे. आप को शेर व शायरी का फ़न ख़़ुदा ने तोहफे में दिया था. पढ़ते पढ़ते आप नौउम्री में ही शेर कहने लगे और शायरी लिखना शुरू कर दिया. 1929 ई० में आप ने हाई स्कूल की तालीम मुकम्मल की और इसके बद सैंट जान कॉलेज आगरा से इंटरमीडिएट की तालीम मुकम्मल कर लिया. फिर  जज़्बी  ने दिल्ली के ऐंग्लो अरबी कॉलेज में दाख़िला लिया और यहीं से आ...

Daagh Dehelvi: The Shayar of Romance (in Urdu)

 شبِ وصال ہے گل کر دو  ان  چراغوں  کو  خوشی کی بزم میں کیا کام  جلنے  والوں کا                                     - داغ داغؔ دہلوی زندگی:      نواب مرزا خان داغ کا پورا نام نواب مرزا خان اور تخلص داغ ہے۔ 25 مئ 1831ء کو آپ کی پیدائش دہلی کے چاندنی چوک علاقے کی گلی استاد باغ میں ہوئی۔ دہلی میں پیدا ہونے کی وجہ سے داغ دہلوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کے اجداد اٹھارویں صدی میں سمرقند سے ہندوستان آکر آباد ہوئے تھے۔ آپ کے والد  نواب شمس الدین خان صاحب جو فیروزپور جھرکا کے نواب تھے۔ چھ سال کی عمر میں ہی آپ کے والد صاحب  کا انتقال ہو گیا تھا۔ بعد میں آپ کی والدہ وزیر خانم نے بہادرشاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کر لی اور پھر انہیں کے ساتھ داغ بھی شاہی قلعہ میں آکر رہنے لگے اور وہیں آپ کی پرورش ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا فخرو دونوں شیخ محمد ابراہیم ذوق کے شاگرد تھے۔ لہذا داغ کو بھی ذوق سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ داغ کی ز...

Daagh Dehelvi: Shayar of Romance (in Hindi)

- शब ए विसाल है गुल कर दो इन चिराग़ों को ख़ुशी की बज़्म में क्या काम जलने वालों का                                   - दाग़ दाग़ देहलवी ज़िन्दगी:      आप का पूरा नाम नवाब मिर्ज़ा ख़ान और तख़ल्लुस दाग़ है. 25 मई 1831 ई0 को आप का जन्म दिल्ली के चांदनी चौक इलाक़े की गली उस्ताद बाग़ में हुई थी. दिल्ली में पैदा होने की वजह से आप दाग़ देहलवी के नाम से मशहूर हुए. आप के पूर्वज अट्ठारहवीं सदी में समरकंद से हिंदुस्तान आकर बस गए थे. आप के वालिद नवाब शमसुद्दीन ख़ान साहब जो फ़िरोज़पुर झिरका के नवाब थे. छः साल की उम्र में ही आप के वालिद साहब इस दुनिया से चल बसे थे. बाद में आप की वालदा साहिबा वज़ीर ख़ानम ने बहादुर शाह ज़फ़र के बेटे मिर्ज़ा फख़रू से शादी कर ली. और फिर उन्हीं के साथ दाग़ भी शाही किले में आकर रहने लगे और वही आप की परवरिश हुई. बहादुर शाह ज़फ़र और मिर्ज़ा फ़ख़रू दोनों शेख़ मोहम्मद ज़ौक के  शागिर्द थे. लिहाज़ा दाग़ को भी ज़ौक की शागिर्दी का फ़ैज़ हासिल करने का मौक़...

Nasir Kazmi: Modern Urdu Poet (In Urdu)

- اتفاقاتِ زمانہ   بھی عجب    ہے  ناصر آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے ناصر -                                                  ناصر کاظمی  زند گی :       سید ناصر کاظمی دورِ جدید کے معروف شاعروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ شاعر کے علاوہ وہ ایک مصنف اور صحافی بھی رہے ہیں۔ جدید انکی پیدائش 8 دسمبر 1925ء کو امبالہ، پنجاب، برطانوی ہندوستان میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد محمد سلطان کاظمی رائل انڈین آرمی میں صوبیدار میجر کے عہدے پر فائز تھے۔      والد کے پیشہ ورانہ تبادلوں کی وجہ سے آپ کا بچپن کئی شہریو میں گزرا تھا۔ شروعاتی تعلیم شملہ میو حاصل کرنے کی۔ میٹرک مسلم ہائی اسکول انبالہ سے کرنے کے بعد آگے کی تعلیم کے لئے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ ناصر کاظمی وہاں کے ایک ہوسٹل میں رہتے تھے۔ اُنکے استادِ خاص رفیق خوار اُن سے ملنے کہ لئے اقبال ہوسٹل میں آتے رہتے تھے۔ والد انکے کمرے۔ میں شعر و ش...