Skip to main content

Azhar Durrani (in Hindi)

-

शरीक ए जुर्म न होते तो मुख़बिरी करते,

हमें ख़बर है लुटेरों के हर ठिकाने की.

                       — अज़हर दुर्रानी

अज़हर दुर्रानी

अज़हर दुर्रानी के बारे में बहुत कुछ नहीं पता है, यह मालूम है कि वह एक पाकिस्तानी शायर थे और लाहौर में रहते थे, कद लंबा और दुबले पतले थे, उसके चेहरे पर सुर्ख़ दाढ़ी थी. उन्हें शोहरत में कोई दिलचस्पी नहीं थी, न ही वह ख़ुद को बढ़ावा देना पसंद करते थे. अज़हर दुर्रानी एक बैंक में काम करते थे. अज़हर दुर्रानी दिल के मरीज़ थे,  उनका पहला कलाम, "शरीक ए जुर्म," प्रकाशित हुआ था,  बाद में उन्होंने "कशकोल" और "कच्ची धूप" सहित तीन या चार और शायरी संग्रह प्रकाशित किए. 1992 में उनका निधन हो गया. वह प्रसिद्ध सहाफ़़ी और शायर मौलाना मुर्तज़ा अहमद मयकश के पोते थे.

------------------------------

मशहूर गजल:

      मेरा नसीब हुएं तल्खियां... (Read Ghazal)

-------------------------------






-

Comments

Popular posts from this blog

Bahadur Shah Zafar: The Shayar and unfateful emperor (in Urdu)

کیا جو قتل مجھے تمنے کیا خوب کام کیا، کہ میں عذاب سے چھوٹا تمہیں ثواب ہوا۔                  — بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر زندگی:       آپ کا اصل نام مرزا ابو المظفر سراج الد ین تھا آپ کی پیدائش 30 اکتوبر 1775ء کو دہلی میں ہوئی تھی آپ کی زندگی کا ایک لمبا عرصہ دہلی کے لال قلعہ میں گزرا تھا۔ آپ کے والد اکبر شاہ ثانی تھے جو کی خود ایک مغل بادشاہ تھے۔ آپ کی پیدائش اکبر شاہ کی ہندو بیوی لال بائی کے بطن سے 14 اکتوبر 1775 میں ہوئی تھی۔ ابو ظفر آپکا تاریخی نام ہے۔ اسی لئے انہوں نے بطور شاعر اپنا تخلص ظفر رکھا۔ ان کی تعلیم قلعۂ میں پورے اہتمام کے ساتھ ہوئی اور انہوں نے مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی۔ لال قلعہ کی تہذیبی زندگی اور اس کے مشاغل میں بھی انہوں نے گہری دلچسپی لی۔ شاہ عالم ثانی کا انتقال اس وقت ہوا جب ظفر کی عمر 31 سال تھی لہٰذا ا نہیں دادا کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کا پورا موقع ملا۔ ان ہی کی صحبت کے نتیجہ میں بہادر شاہ کو مختلف زبانوں پر قدرت حاصل ہوئی۔ اردو اور فارسی کے ساتھ ساتھ برج بھاشا اور پنجابی میں بھی آپ کا کلام مو...

Insha Allah Khan: One of greatest Indian poet (in Urdu)

    ۔                                                انشاء اللہ خاں  انشؔاء زندگی:      سید انشاء اللہ خاں انشؔاء اپنے زمانے کے نامور شعراء میں تھے۔ آپ کے والد میر ماشااللہ خان صاحب تھے۔ جو ایک جانے مانے حکیم تھے۔ ان کے بزرگ نجف اشرف کے رہنے والے تھے جو عراق میں بغداد سے قریب 160 کیلومیٹر واقع ایک شہر ہے۔ یہ لوگ مغلیہ عہد میں وہاں سے ہندوستان  تشریف لائے۔ کئی پشتیں بادشاہوں کی سرپرستی میں گزارنے کے بعد جب مغل حکومت کا  زوال آیا تو ماشاء اللہ خان دہلی چھوڑ کر بنگال کے مرشد آباد شہر چلے گئے تھے جہاں ماشا اللہ خان کو نواب سراج الدولا نے اپنے دربار میں لے لیا۔ دسمبر 1752ء میں مرشد آباد میں ہی انشؔاء کی پیدائش ہوئی تھی۔ شاہ عالم دوم کے وقت میں انشؔاء اللہ خاں دلّی آ گئے تھے۔ 1780ء میں آپ مرزا نجف بیگ کی فوج میں شامل ہو گئے لیکن آپ کی شاعرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے جلد ہی آپ کی پہنچ شاہی دربار تک ہو گئی۔ شاہ عالم دوم نے اُنہیں خ...

Akbar Allahabadi: the Urdu Poet (in Hindi)

                   –       तुम्हें इस इन्कलाबे दहर का क्या ग़म है ऐ अकबर,      बहुत नज़दीक हैं वह दिन कि तुम होंगे न हम होंगे.                                      —अकबर इलाहाबदी                                       अकबर इलाहाबादी ज़िन्दगी :      सय्यद अकबर हुसैन रिज़वी, जो शायर अकबर इलाहाबादी के नाम से मशहूर हैं, एक भारतीय उर्दू शायर (कवि) है जो ख़ास कर अपनी शायरी में व्यंग्य और कटाक्ष के लिए जाने जाते हैं. उनका जन्म 16 नवंबर 1846ई० को इलाहाबाद के पास एक गांव में हुआ था, उस समय देश में अंग्रेज़ो का शासन था. आप अपनी प्रारंभिक शिक्षा मदरसे (धार्मिक स्कूल) में ग्रहण की जो उस समय के अधिकांश मुस्लिम बच्चों ...